پاکستان

اسلام آباد: عام انتخابات کو سیکیورٹی چیلنجز کے سبب تین ماہ تک ملتوی کرانے کے لیے سینیٹ میں قرارداد جمع کرادی گئی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق الیکشن 2024ء کے التوا سے متعلق یہ قرارداد آزاد پارلیمانی گروپ کے سینیٹر ہدایت اللہ نے سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کرائی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں عام انتخابات کے انعقاد کی آئینی ذمہ داری کی تعمیل کے مراحل کے حوالے سے انتخابی امیدواروں کو نشانہ بنانے کے بڑھتے ہوئے واقعات میں مسلسل اضافے پر یہ ایوان گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں دہشت گردی اور تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات جن میں بشمول شمالی وزیرستان، باجوڑ، صوابی اور تربت میں مسلح حملے ہوئے جس کے نتیجے میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے انتخاب لڑنے والے ایک بزرگ قوم پرست سیاست دان شدید زخمی بھی ہوئے اور ایک امیدوار جاں بحق ہوئے۔ متن میں کہا گیا ہے کہ ان واقعات کی وجہ سے ملک بھر میں خوف اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہو گیا ہے، امیدواروں کی رہائش گاہوں اور انتخابی مہم کے دفاتر میں دھمکیوں والے پمفلٹس کی تقسیم موجودہ سیکورٹی چیلنجوں میں ایک اور پریشان کن حد تک اضافہ سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ متن کے مطابق ایوان بالا تسلیم کرتا ہے کہ عام انتخابات کا انعقاد ایک آئینی ذمہ داری ہے، آئین یکساں طور پر انتخابات کے آزادانہ اور منصفانہ ہونے اور تمام شراکت داروں کی حفاظت اور بلا رکاوٹ شرکت کو یقینی بنانے پر زور دیتا ہے۔ آئین جہاں آزادانہ انتخابات کے انعقاد کویقینی بنانے پر زور دیتا ہے وہاں عوام کے جان و مال کے تحفظ کے بنیادی حق کو یقینی بناتا ہے۔ سینیٹر ہدایت اللہ نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل (9) اس امر کی اہمیت کو اجا گر کرتا ہے کہ یہ بنیادی حق ہے جو ہر حال میں ریاست کو فراہم کرنا ہے اور عوام کے جان و مال کی حفاظت ریاست کی بنیادی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے، ایوان بالا الیکشن کمیشن آف پاکستان اور سپریم کورٹ آف پاکستان پر زور دیتا ہے کہ وہ انتخابات کو تین ماہ کے لیے ملتوی کردیں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ التوا کی مدت کے دوران، ایوان بالا حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فعال طور پر ایسے حالات پیدا کرے جو تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے لیے برابری کے میدان کو یقینی بنائے، اسی سلسلے میں سلامتی کے خدشات کو دور کرنا شمولیت کی فضا کو فروغ دینا اور دھمکیوں سے آزادی کی ضمانت دینا وغیرہ شامل ہیں۔

اسلام آباد: آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ رواں مالی سال 2023-24ء میں پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح دوفیصد متوقع ہے، رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کی مالیاتی پوزیشن مضبوط ہوئی، جی ڈی پی کے 0.4 فیصد کا بنیادی سرپلس ریکارڈ کیا گیا، ٹیکس وصولیوں کی گروتھ کی وجہ سے شرح نمو بہتر رہی تاہم ملک میں مہنگائی اب بھی بدستور بلند ہے۔

اپنے جائزہ بیان میں آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ مناسب سخت مانیٹری پالیسی کے ساتھ افراط زر کم ہوکر 18.5 فیصد تک آسکتا ہے، جون 2024ء کے آخر تک سود 18.5 فیصد تک گرسکتا ہے، دسمبر 2023ء میں مجموعی ذخائر بڑھ کر 8.2 ارب ڈالر ہو گئے جو جون میں 4.5 بلین ڈالر کے لگ بھگ تھے۔

آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ زر مبادلہ کی شرح بڑے پیمانے پر مستحکم رہی ہے، مالی سال 24 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 1.5 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے۔
یہ پڑھیں : پاکستان کی شرح ترقی 1.7 فیصد، مہنگائی اگلے سال بھی رہے گی، عالمی بینک

آئی ایم ایف نے معیشت کو فروغ دینے کے لیے بھی تجاویز دی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ مالیاتی فریم ورک کو بہتر بنانے کے لیے وسیع البنیاد اصلاحات کی ضرورت ہے، خاص طور پر نان فائلرز اور کم ٹیکس والے شعبوں سے اضافی محصولات کی وصولی کو فوکس کرنا ہوگا حکومت پبلک فنانشل مینجمنٹ کو بہتر کرے۔

آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ حکومت مزید سماجی اور ترقیاتی اخراجات کے لیے مالیاتی گنجائش پیدا کرنے کیلئے اقدام اٹھائے، حکام نے 2023ء میں بجلی اور قدرتی گیس دونوں کی قیمتوں کو لاگت کے قریب لانے کے لیے چیلنجنگ اقدامات کیے، باقاعدگی سے طے شدہ ایڈجسٹمنٹ کو جاری رکھنا اور لاگت کے لحاظ سے پاور سیکٹر میں اصلاحات کو آگے بڑھانا اس شعبے کی عمل داری کو بہتر بنانے اور مالیاتی استحکام کے تحفظ کے لیے بہت ضروری ہے۔

آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان کو بیرونی جھٹکوں سے بچنے کے لیے مارکیٹ سے طے شدہ شرح مبادلہ کی بھی ضرورت ہے، حکومت کو غیر ملکی ذخائر کی تعمیر نو اور مسابقت اور ترقی کی حمایت کرنے کی ضرورت ہے، حکومت کاروباری ماحول کو بہتر بنائے اور سرمایہ کاروں کے لیے کھیل کے میدان کو برابر کرے، حکومتی ملکیتی اداروں کے اصلاحاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے اور خود مختار ویلتھ فنڈ سے متعلق تحفظات دور کرنا ہوں گے ساتھ ہی اداروں میں گورننس بہتر اور انسداد بدعنوانی کے اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button