غیر فعال قرضوں کیساتھ بینکوں کا منافع بھی گھٹ گیا

June 14, 2017 4:04 pm0 commentsViews: 2

 اسٹیٹ بینک نے 31 مارچ 2017 کو ختم ہونے والی پہلی سہ ماہی (جنوری تا مارچ) کی بینکاری شعبے کا سہ ماہی کارکردگی جائزہ جاری کر دیا، اس دستاویز میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بینکاری شعبے کے اثاثوں میں توسیع ہوئی ہے جس کا سبب قرضوں اور سرمایہ کاری دونوں میں اضافہ ہے جبکہ اس توسیع کو ڈپازٹس میں معمولی اضافے اور مالی اداروں سے قرض گیری کے بڑھنے سے بھی تقویت ملی ہے۔

بینکاری شعبے کی نفع یابی معتدل ہو گئی ہے جبکہ اثاثہ جاتی معیار میں بہتری آئی ہے اور کفایت سرمایہ تناسب اطمینان بخش سطح پر رہا، سال کی پہلی سہ ماہی میں قرضوں کی روایتی واپسی کے عام رجحان کے برعکس 2017 کی پہلی سہ ماہی میں نجی شعبے کے قرضوں میں اضافہ ہو گیا، کارپوریٹ شعبے کی جانب سے معین (فکسڈ) سرمایہ کاری قرضوں کے علاوہ گنے کی پیداوار میں شاندار اضافے کے نتیجے میں چینی کے لیے فنانسنگ کی مد میں سرکاری و نجی دونوں شعبوں کی طرف سے لیے گئے قرضوں کی سطح بلند ہو گئی، کارپوریٹ شعبہ کم شرح سود اور بہتر کاروباری ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے طویل مدتی exposure کو بڑھا رہا ہے جس سے تشکیل سرمایہ مستحکم ہو رہی ہے، صارف فنانس میں گاڑیوں اور مارگیج کے قرضوں کا اس ذیلی جز کی نمو میں اہم حصہ رہا ہے، علاوہ ازیں مجموعی قرضوں کی نمو میں اسلامی بینکاری کا بھی خاصا حصہ ہے۔

ڈپازٹس کو بینکاری شعبے میں فنڈنگ کے اہم ذریعے کی حیثیت حاصل ہے، 2017 کی پہلی سہ ماہی کے دوران ان میں 0.1 فیصد اضافہ ہوا جبکہ 2016  کی پہلی سہ ماہی میں یہ 0.6 فیصد کم ہوئے تھے، فنڈز کا بہاؤ زیادہ تر بچتوں (54 ارب روپے)، منافع بخش جاری کھاتہ (44 ارب روپے) اور دیگر زمروں میں دیکھا گیا، ڈپازٹس کے علاوہ مالی اداروں سے قرض گیری کے ذریعے اثاثوں میں توسیع کے لیے درکار فنڈنگ مہیا کی گئی، بینکاری شعبے کے اثاثوں کے معیار میں بہتری آئی، غیرفعال قرضوں کا تناسب گھٹ کر 9.9 فیصد رہ گیا، این پی ایلز میں سال بہ سال 2.4 فیصد کمی کی صورت مثبت تبدیلی آئی اور ایڈوانسز میں 15.5فیصد کا اضافہ ہوا، انفکیشن ریشو 2009کے بعد سے کم ترین سطح پرآگیا، بینکنگ سیکٹر کو رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں 49ارب کا بعد از ٹیکس منافع ہوا جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں 52ارب روپے کامنافع ہواتھا، ای اے آر معمولی کمی سے 15.9فیصدرہا، بینکوں کی مالیاتی پوزیشن مستحکم ہے کیونکہ سی اے آر 10.65 فیصدکی کم ازکم شرط سے کہیں زیادہ ہے۔

Leave a Reply


Trackbacks