اسرائیل کو نسل پرست قرار دینے والی اقوام متحدہ کی انڈر سیکریٹری دباؤ پر مستعفی

March 19, 2017 5:58 pm0 commentsViews: 1

نیویارک768605-rima-1489851109-695-640x480

اسرائیل کو نسل پرست قرار دینے والی اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری ریما کیلاف نے شدید دباؤ کے بعد عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اردن سے تعلق رکھنے والی اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری ریما کیلاف نے فلسطینوں کے ساتھ اسرائیل کے رویے کو نسل پرستانہ قرار دینے سے متعلق حال ہی میں رپورٹ شائع کی تھی جسے واپس لینے کے لئے ان پر شدید دباؤ ڈالا جارہا تھا جس پر ریما کیلاف نے احتجاج کرتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے استعفیٰ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو بھجوا دیا۔ انہوں نے کہا کہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس ان پر رپورٹ واپس لینے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں جب کہ انہیں معلوم تھا کہ اسرائیل اور اس کے اتحادی اس رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد شدید دباؤ ڈالیں گے اور یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی ویب سائٹ سے بھی گزشتہ روز ہٹا لی گئی ہے۔

اسرائیل کو نسل پرستانہ قرار دیئے جانے سے متعلق رپورٹ اقوام متحدہ کے مغربی ایشیا کے معاشی اور سماجی کمیشن کی طرف سے شائع کی گئی تھی جس کی سربراہ اقوام متحدہ کی انڈر سیکریٹری ریما کیلاف تھیں جب کہ  رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل کو نسل پرستانہ جرائم کا مرتکب قرار دینے سے پہلے انہوں نے بڑی جامع اور مفصل تحقیق کی ہے اور ان کے پاس بے انتہا ثبوت موجود ہیں جن سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے جب کہ اسرائیل نے اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد شدید احتجاج کیا اور اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اسرائیل کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔

Leave a Reply


Trackbacks