Home / صنعت و تجارت / ایمنسٹی اسکیم مقامی کرنسی، اسٹاکس اور شیئر تک وسیع کرنے کا مطالبہ

ایمنسٹی اسکیم مقامی کرنسی، اسٹاکس اور شیئر تک وسیع کرنے کا مطالبہ

کراچی:

وفاق ایوان ہائے تجارت وصنعت(ایف پی سی سی آئی) نے وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ ٹیکس کی شرح کم کرنے اور بیرون ممالک اثاثے رکھنے والے افراد کے لیے ایمنسٹی اسکیم کو خوش آئند قراردیتے ہوئے ایمنسٹی اسکیم میں سیاستدانوں کو بھی شامل اور شرائط محدود کرنے کا مطالبہ کردیا۔

فیڈریشن ہائوس میں ایف پی سی سی آئی کے صدر غضنفربلور نے اپنے سینئرنائب صدر مظہراے ناصر اور نائب صدر طارق حلیم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ایمنسٹی اسکیم میں زیادہ تر مراعات آئندہ انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے دی ہیں، حکومت کا پراپرٹی ڈیکلیئر ریٹ پر خریدنے کا راستہ رشوت ستانی کو فروغ دے گا اس لیے ہم پراپرٹی کی ویلیو ایشن کا خاتمہ مسترد کرتے ہیں تاہم ایمنسٹی اسکیم اچھے وقت پر لائی گئی ہے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور سرمائے کی فراہمی بڑھانے میں مدد ملے گی۔

پریس کانفرنس میں ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، حنیف گوہر،شکیل احمدڈھینگڑا،سلطان شمسی بھی موجود تھے۔ غضنفر بلور نے کہا کہ سیاستدان ایمنسٹی کی مخالفت کررہے ہیں لیکن انہیں اس اسکیم کے بہتر فوائد کا علم نہیں ہے اس لیے سیاستدان تنقید برائے تنقید نہ کریں، ایمنسٹی کے ذریعے ملک میں ڈالر آئیں گے جس سے نہ صرف زرمبادلہ کے کم ہوتے ہوئے ذخائر میں بہتری آئے گی بلکہ نئی فیکٹریاں لگیں گی جس سے بے روزگاری کا خاتمہ ہوسکے گا ، ضرورت اس بات کی ہے کہ ایمنسٹی اسکیم کو پارلیمنٹ سے منظور کرایا جائے۔

 

انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کی گفٹ اسکیم ختم کرکے جو طریقہ لایا جارہا ہے اس سے سستی گاڑیاں امپورٹ ہوں گی، حکومت نے ایف پی سی سی آئی کے مطالبے پر ہی یہ قدم اٹھایا ہے، حکومت کو چاہیے کہ مقامی کرنسی، اسٹاکس اور شیئرز کو بھی ایمنسٹی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو پیسہ ملک سے باہر گیا اس کی وجہ ملک میں رہنے والے خراب حالات تھے، ٹیکس دہندگان کیخلاف چھاپے اور بغیراجازت ان کے بینک اکائونٹس کو چیک کرنا،کسٹمز انٹیلی جنس کی جانب سے بزنس کمیونٹی کی پکڑ دھکڑ کی وجہ سے پیسہ ملک سے باہرگیا لیکن اب ملک میں 95 فیصدامن ہے اس لیے ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھا کر بیرون ممالک میں پاکستانیز اپنا سرمایہ پاکستان لائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس اسکیم سے سیاستدانوں کو باہر نہ رکھا جائے کیونکہ وہ بھی پاکستانی شہری ہیں جبکہ مذکورہ اسکیم میں ایسے لوگوں کو بھی موقع دیا جائے جن کے پاس کمرشل اسٹاکس اور غیرظاہر شدہ شیئرز موجود ہیں۔ سینئر نائب صدر مظہراے ناصر نے کہا کہ توازن ادائیگی بہتر نہ ہوا تو دوبارہ آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑے گا تاہم ایمنسٹی اسکیم سے سرمایہ کی فراوانی بڑھے گی جس سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے چین کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے کا دوسرا رائونڈ ملتوی کردیا ہے، حکومت معاشی اقدامات میں ایف پی سی سی آئی سے مشاورت یقینی بنائے، اپریل میں وزیراعظم کے دورہ چین کے موقع پر آزاد تجارت کے معاہدے کی تجدید نہیں ہوگی اور اس بارے میں وزارت تجارت اور سینیٹر ہارون اختر نے ہمیں مطلع کیا ہے کہ چین کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے کا دوسرا رائونڈ نئی حکومت طے کریگی۔

مظہراے ناصر نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم میں ایف پی سی سی آئی کی متعدد تجاویز کو شامل کیا گیا ہے لیکن اثاثوں کو چھپانے پر نیب اور ایف آئی اے کے جاری کردہ نوٹس واپس لیے جائیں، بیرون ملک اثاثوں کے مقدمات کے آڈٹس کو بھی ایمنسٹی دی جائے۔

ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ 70سال میں پاکستان میں کوئی اسیسی اسکیم نہیں دی گئی بلکہ اوورسیز ڈیکلریشن کی یہ پہلی اسکیم ہے، وزیراعظم نے ایف پی سی سی آئی کی ڈیمانڈ کو ہی اعلان میں شامل کیا ہے اب بزنس کمیونٹی کی ذمے داری ہے کہ وہ چھپے ہوئے اثاثے ظاہر کرے۔

سابق نائب صدر حنیف گوہر نے کہا کہ زمینوں اور جائیداد کی قیمتیں ہر15دن میں کم اور زیادہ ہوتی ہیں ان حالات میں حکومت ڈی سی ویلیو کو ہی برقرار رکھے، ڈی سی ویلیو 18ویں ترمیم کے تحت صوبائی مسئلہ ہے اس لیے ویلیو کو رفتہ رفتہ بڑھایا جائے، یکدم ویلیو بڑھانے سے مارکیٹ بیٹھ سکتی ہے۔

ایف پی سی سی آئی کی ایف بی آر کمیٹی کے سربراہ شکیل احمد ڈھنگڑا نے کہا کہ ایمنسٹی اچھی تجویز ہے لیکن اس کیلیے لگائی گئی شرائط بہت زیادہ ہیں، جائیداد کی ضبطگی والے قانون کی وجہ سے عوام سرمایہ کاری سے گھبرائیں گے۔

About Admin

Check Also

کاروباری برادری کاایمنسٹی کیلیے قانونی تحفظ پرزور

کراچی: کاروباری برادری نے ایمنسٹی اسکیم سے استفادے کویقینی بنانے کیلیے قانونی تحفظ فراہم کرنے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *